Posts

Showing posts from December, 2023

الوداعی غزل

 جتنا رب سے تجھ کو مانگا  بخشش مانگتے بخشے جاتے دل میں اک عنوان تو رکھتے  مسلم تھے ایمان تو رکھتے  یا پھر انس و محبت والے  دیپ جلاتے بخشے جاتے روشن چاند سا چہرہ ہوتا  نگر نگر پہ پہرہ ہوتا  رات گھنی بھی دلکش لگتی چاند گہن نے گھیرا ہوتا   چاندنی رات میں ہم بھی تجھ کو دیکھنے آتے بخشے جاتے  استقبال کو تارے آتے  جتنے بھی ہیں سارے آتے  خواہش دل میں ہم بھی کرتے  کاش کہ ہم بھی پیارے ہوتے  ممکن تھا ہم بخشے جاتے روشن دنیا کرتے جاتے  گر ہم خوف جدائی رکھتے  کیوں دنیا سے چلتے جاتے  یہ تو تب ممکن تھا عاطف  جاتے وقت وہ قافلے میں سے  ہاتھ ہلاتے بخشے جاتے