الوداعی غزل
جتنا رب سے تجھ کو مانگا بخشش مانگتے بخشے جاتے دل میں اک عنوان تو رکھتے مسلم تھے ایمان تو رکھتے یا پھر انس و محبت والے دیپ جلاتے بخشے جاتے روشن چاند سا چہرہ ہوتا نگر نگر پہ پہرہ ہوتا رات گھنی بھی دلکش لگتی چاند گہن نے گھیرا ہوتا چاندنی رات میں ہم بھی تجھ کو دیکھنے آتے بخشے جاتے استقبال کو تارے آتے جتنے بھی ہیں سارے آتے خواہش دل میں ہم بھی کرتے کاش کہ ہم بھی پیارے ہوتے ممکن تھا ہم بخشے جاتے روشن دنیا کرتے جاتے گر ہم خوف جدائی رکھتے کیوں دنیا سے چلتے جاتے یہ تو تب ممکن تھا عاطف جاتے وقت وہ قافلے میں سے ہاتھ ہلاتے بخشے جاتے